Planet Mercury Full details in Urdu

سیارہ عطارد

(Planet Mercury Complete article)

ہمارے چاند سے ملتا جُلتا “صبح کا تارا اور شام کا تارا”
پرانے زمانے کے لوگوں نے عطارد سیارے کو یہ نام دے رکھا تھا۔ کیوں کہ یہ سورج کے ساتھ ساتھ رہ کر کبھی صبح کے وقت چمکتا ہے تو کبھی شام کو تارے کی طرح چمکتا ہے۔ اس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ پانچ ہزار سال قبل کی تاریخ میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ حیران کن بات یہ بھی ہے کہ یونانی فلکیاتدان ڈھائی ہزار سال پہلے بھی یہ بات جانتے تھے کہ صبح کا تارا اور شام کا تارا دراصل ایک ہی فلکیاتی جسم کے دو نام ہیں۔

سترھویں صدی میں گیلیلیو گیلیلی کی بنائی گئی دوربین باقی سیاروں کو دیکھنے کے لیے تو مناسب تھی۔ مگر عطارد کو دیکھنا اس دوربین کے لیے ممکن نہ تھا۔ اس کی وجہ عطارد کا انتہائی چھوٹا حجم اور سورج سے بہت زیادہ نزدیکی تھی۔ سیارہ عطارد کو دیکھنے کا سب سے شاندار موقع تب آتا ہے جب عطارد سورج کے آگے سے گزرتا ہے۔ اس مظہر کو فلکیات میں transit کہتے ہیں۔ عطارد کو ٹرانزٹ کے دوران پہلی بار 1737 عیسوی میں دیکھا گیا تھا۔

سیارہ عطارد ہمارے نظام شمسی کا پہلا سیارہ ہے۔ باقی سیاروں کی نسبت اس کا مدار سورج کے قریب ترین ہے۔ سورج اور زمین کے درمیان میں دو سیاروں (عطارد اور زہرہ) کے مدار موجود ہیں۔ زمین کا مدار تیسرے نمبر پر ہے اور زمین کے بعد سیارہ مریخ کا مدار آتا ہے۔ یہ چاروں سیارے نظام شمسی کے چٹانی (ٹھوس سطح والے) سیارے ہیں۔

سیارہ عطارد نظام شمسی کے تمام سیاروں میں سب سے چھوٹا سیارہ ہے۔ یہاں تک کہ یہ سیارہ ہمارے نظام شمسی کے کئی ایک چاندوں (گینیمیڈ اور ٹائٹن) سے بھی چھوٹا ہے۔ عطارد کا قُطر (diameter) چار ہزار چار سو اسی 4480 کلومیٹر ہے۔ یہ قُطر ہماری زمین کے قُطر کا تقریبًا تیسرا حصہ بنتا ہے۔ لیکن عطارد کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ہمارے نظام شمسی کا (زمین کے بعد) سب سے زیادہ کثیف (گھنے) کمیت رکھنے والا سیارہ ہے۔ یعنی گر اس کی ساری کمیت کو اس کے کُل حجم پر تقسیم کیا جائے تو اس کے حجم کے ہر کیوبک سینٹی میٹر میں پانچ اعشاریہ تینتالیس 5.43 گرام (5.43 g/cm³) کمیت آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ گینیمیڈ اور ٹائٹن چاندوں سے حجم مں چھوٹا ہونے کے باوجود ان سے کم و بیش دوگنا زیادہ وزن رکھتا ہے۔

سیارہ عطارد سورج کے بہت قریب ہونے کی وجہ سے اپنے مدار پر انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ چلتا ہے۔ نظام شمسی میں موجود تمام سیاروں کی مداروی رفتار (orbital speed) کا اگر موازنہ کیا جائے تو سیارہ عطارد تمام سیاروں میں سب سے زیادہ تیز رفتار ہے۔ ایک لاکھ اسی ہزار (180000) کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے عطارد سورج کے گرد اٹھاسی 88 (زمینی) دنوں میں ایک چکر مکمل کر لیتا ہے۔ اس کا مدار سورج کے گرد انتہائی بیضوی (elliptical) ہے۔ یعنی ایک وقت پر یہ سورج سے انتہائی دوری پر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اپنے مدار کی دوسری جانب پہنچ کر یہ سورج سے بہت قریب ہوتا ہے۔

• سورج سے اوسط فاصلہ Average distance from the sun
عطارد کا سورج سے اوسط فاصلہ پانچ کروڑ اناسی لاکھ نو ہزار ایک سو پچھتر 57909175 کلومیٹر ہے۔

• سورج سے انتہائی دوری Aphelion
سورج سے انتہائی دوری کے وقت سیارہ عطارد کا سورج سے فاصلہ چھ کروڑ اٹھانوے لاکھ بیس ہزار 69820000 کلومیٹر ہوتا ہے۔

• سورج سے کم ترین فاصلہ Perihelion
سیارہ عطارد جب اپنے مدار پر سورج کے قریب ترین ہوتا ہے تو اس کا سورج سے فاصلہ چار کروڑ ساٹھ لاکھ 46000000 کلومیٹر بنتا ہے۔

سن عیسوی 1960 تک یہی سمجھا جاتا رہا تھا کہ سورج سے انتہائی نزدیک ہونے کی وجہ سے سیارہ عطارد سورج کے ساتھ ٹائیڈلی لاکڈ (tidaly locked) ہے۔ یعنی عطارد کا ہمیشہ ایک ہی رُخ سورج کے سامنے رہتا ہے (جیسا کہ زمینی چاند کا ہمیشہ ایک ہی رُخ زمین کی طرف رہتا ہے) لیکن سن عیسوی 1965 میں ڈوپلر ریڈار مشاہدے (Doppler radar observation) نے ہمارے اس خیال کو غلط ثابت کر دیا۔ سیارہ عطارد تقریبًا انسٹھ 59 (58.646) زمینی دنوں میں اپنے محور پر ایک چکر مکمل کر لیتا ہے۔ یعنی سیارہ عطارد کا ایک سال اس کے ڈیڑھ دن کے برابر ہے۔ یا پھر یوں کہہ لیجیے کہ جتنے عرصے میں سیارہ عطارد سورج کے گرد دو چکر مکمل کرتا ہے تب تک یہ اپنے محور پر تین چکر لگا چکا ہوتا ہے۔
• سیارہ عطارد کا ایک سال زمین کے 88 دنوں کے برابر ہے۔
• سیارہ عطارد کا ایک دن زمین کے 59 دنوں کے برابر ہے۔

سیارہ عطارد کی ساخت اور درجہ حرارت
(Mercury’s structure and temperature)

پہلے یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ سیارہ عطارد سورج کے قریب ترین ہونے کی وجہ سے نظام شمسی کا سب سے گرم سیارہ ہو گا۔ تاہم سیارہ زہرہ (Venus) کے درجہ حرارت کی معلومات ملنے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ نظام شمسی کا سب سے گرم سیارہ زہرہ ہے۔ لیکن سیارہ زہرہ اور عطارد کے درجہ حرارت میں کچھ خاص فرق نہیں ہے۔ چار سو پینسٹھ 465 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے ساتھ زہرہ سیارہ پہلے نمبر پر ہے۔ جبکہ چار سو پچاس ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت کا حامل عطارد سیارہ نظام شمسی میں دوسرے نمبر پر گرم ترین سیارہ ہے۔

عطارد اور زہرہ سیاروں کے درجہ حرارت میں دوسرا بڑا فرق بھی ہے۔ زہرہ سیارے کا درجہ حرارت اپنی اس حالت پر قائم رہتا ہے جبکہ عطارد درجہ حرارت کے لحاظ سے بہت بڑے بدلاؤ کا سامنا کرتا ہے۔ سابقہ مضمون میں ہم نے پڑھا تھا کہ عطارد اپنے محور پر ایک چکر انسٹھ 59 زمینی دنوں میں پورا کرتا ہے۔ عطارد کا ایک رُخ ساڑھے انتیس دن تک سورج کے سامنے رہتا ہے۔ یعنی یہ عطارد کا دن ہے اور دن کے دوران اس کی سطح کا درجہ حرارت ساڑھے چار سو ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ اس کا دوسرا رُخ جو اس دوران سورج کے سامنے نہیں ہوتا وہاں کا درجہ حرارت منفی ایک سو ستر -170 ڈگری سینٹی گریڈ تک گِر جاتا ہے۔

عطارد کی سطح پر درجہ حرارت کے اتنے بڑے بدلاؤ کی اہم وجہ اس سیارے پر فضا (Atmosphere) کا انتہائی پتلا اور کمزور ہونا ہے۔ کسی بھی سیارے کی فضا کا مضبوط اور موٹا ہونا اس سیارےکی کششِ ثقل کے ساتھ نَتھی ہوتا ہے۔ سیارہ عطارد کی کششِ ثقل 3.7 m/s² ہے (یہ کششِ ثقل زمینی کششِ ثقل کا تقریبًا تیسرا حصہ ہے) کمزور کششِ ثقل کی بنا پر عطارد کی فضا بھی انتہائی پتلی ہے۔ اس کی فضا میں بیالیس فیصد آکسیجن، انتیس فیصد سوڈیم، بائیس فیصد ہائیڈروجن، چھ فیصد ہیلیئم اور صفر اعشاریہ پانچ فیصد پوٹاشیئم کے ایٹمز پائے جاتے ہیں۔ بہت کم مقدار میں دیگر (آرگن، کاربن ڈائی آکسائیڈ، پانی، نائٹروجن، زینون، کرپٹن اور نیون وغیرہ) کے ایٹمز بھی موجود ہیں۔ ہائیڈروجن اور ہیلیئم کے ایٹمز شمسی ہواؤں کے ذریعے اس کی فضا تک پہنچ کر فضا کا حصہ بنتے ہیں۔

لیکن جب عطارد کی سطح کا درجہ حرارت شدت کو پہنچتا ہے تو اس کی فضا میں موجود ایٹمز کی کائینیٹک توانائی (kinetic energy) بڑھ جاتی ہے۔ کائینیٹک توانائی بڑھتے ہی یہ ایٹمز دوبارہ خلا میں منتشر ہو جاتے ہیں۔ یوں اس کی فضا اپنی اصل (پتلی) حالت میں واپس آ جاتی ہے۔ ساڑھے چار سو ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت سے پیدا ہوئی گرمی کو محفوظ اور برقرار رکھنے کے لیے عطارد پر موجود فضا کافی نہیں ہے۔ اسی لیے رات ہوتے ہی اس کا تپتا ہوا رُخ منفی ایک سو ستر ڈگری سینٹی گریڈ کی سخت ترین خلائی سردی میں ڈوب جاتا ہے۔ اگر عطارد کی فضا مضبوط اور گھنی ہو تو اس کے درجہ حرارت میں اتنا بڑا بدلاؤ نہیں آ سکتا۔

اگر سیارہ عطارد کے حجم کو دیکھا جائے تو اس کا اندرونی مرکزہ (Inner core) اس کے حجم کے لحاظ سے بہت بڑا ہے۔ یہ مرکزہ تمام کا تمام لوہے پر مبنی ہے۔ عطارد کا اندرونی مرکزہ عطارد کی کُل کمیت کا ستر سے پچاسی فیصد بنتا ہے۔ اس مرکزے کا قُطر چار ہزار کلومیٹر سے کچھ بڑا ہے۔ اندرونی مرکزے کے اوپر بیرونی مرکزے (outer core) کا خول ہے۔ بیرونی مرکزہ چار سو سے چھ سو کلومیٹر موٹا ہے۔ اس کا بیرونی مرکزہ سلیکیٹ Silicate سے بنا ہے۔ بیرونی مرکزے کے اوپر عطارد کی سطحی پَرت (Crust) کا تقریبًا ایک کلومیٹر موٹا غلاف موجود ہے۔ عطارد کی یہ سطحی پَرت بھی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ سلیکیٹ سے ہی بنی ہے۔

انتہائی چھوٹا حجم ہونے کے باوجود عطارد کا مرکزہ اس قدر بڑا کیوں ہے؟ اس متعلق ہمارے پاس فی الحال کوئی مضبوط اور ثابت شدہ نظریہ موجود نہیں ہے۔ اس بارے میں ماہرینِ فلکیات و ارضیات کا اندازہ ہے کہ :

• شروع میں عطارد موجودہ حجم سے دوگنا تھا۔ لیکن کسی بڑے شہابیے کی ٹکر سے اس کی باہری پَرتیں خلا میں تحلیل ہو گئیں۔ چوں کہ باقی بچ جانے والا مادہ زیادہ تر مرکزے پر مشتمل تھا۔ لہذا عطارد کو انتہائی چھوٹا حجم ہونے کے باوجود بڑا مرکزہ مل گیا۔

• یا پھر نظام شمسی کی تخلیق کے ابتدائی مراحل میں سورج کے غیر مستحکم درجہ حرارت کی بنا پر عطارد کی کم کثافت پر مبنی پَرتیں درجہ حرارت کی شدت کی وجہ سے مائع حالت میں تبدیل ہو کر آہستہ آہستہ خلا میں بکھر گئیں اور چھوٹی پَرت کے ساتھ بڑا مرکزہ بچ گیا۔

• ایک تیسرا (غیر ثابت شدہ) نظریہ یہ بھی ہے کہ جس شمسی نیبولا کے اندر عطارد کی تخلیق ہوئی تھی، اسی نیبولا کی شدید کششِ ثقل نے عطارد کے ہلکے عناصر کو اپنی جانب کھینچ کر اس کی باہری پَرتوں کو ختم کر دیا تھا۔

سیارہ عطارد کے گڑھے اور برف
(Mercury’s craters and ice)

چار ارب ساٹھ کروڑ برسوں میں سیارہ عطارد نے کیا کچھ جھیلا ہے؟ آج ہم کافی حد تک جان چکے ہیں۔ یہ ساتھ منسلک تصویر سیارہ عطارد کی ہے۔ یہ تصویر نقلی نہیں ہے اور نہ ہی دل کو خوش کرنے کے لیے اس میں رنگ بھرے گئے ہیں (جدا جدا رنگ مختکف عناصر کی عکاسی کر رہے ہیں) اس تصویر پہ غور کرنے پر ہمیں اس میں تین اہم چیزیں اپنی موجودگی کا احساس دلائیں گی۔

• گڑھے
• گڑھوں سے نکلنے والی روشن لائنیں
(جنہیں Craters rays بھی کہا جاتا ہے)
• سطحی لہریں

عطارد کے گڑھے Mercury’s Craters
عطارد کی سطح چاند سے بہت زیادہ میل کھاتی ہے۔ اس پر بھی چاند کی طرح شہابیوں کی ٹکروں سے بنے بہت سے چھوٹے بڑے گڑھے موجود ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑا گڑھا کیلورس Caloris ہے۔ اس گڑھے کا قُطر پندرہ سو پچاس 1550 کلومیٹر ہے۔ یہاں ٹکرانے والی خلائی چٹان کے ٹکراؤ سے اس گڑھے کے کنارے چھ ہزار فٹ تک بلند ہو گئے تھے۔ عطارد پر کچھ ایسے گڑھے بھی ہیں کہ جن سے نکلنے والا میگما (لاوا) پانچ سو کلومیٹر دور تک پھیلا ہے۔ چاند کی نسبت عطارد کی کششِ ثقل زیادہ ہے، لہذا اسی لیے خلائی چٹانوں کے ٹکرانے سے عطارد کے گڑھے زیادہ گہرے نہیں ہوئے۔

گڑھوں کی کِرنیں Crater rays
گڑھوں سے نکل کر دور تک پھیلی ہوئیں یہ روشن کِرنیں شہابیوں کے ٹکرانے سے وجود میں آتی ہیں۔ کیسے؟ جب کوئی بڑا شہابیہ تیز رفتاری کے ساتھ کسی سیارے یا چاند سے ٹکراتا ہے تو اپنے پیچھے بہت بڑی تباہی کے نشانات چھوڑ جاتا ہے۔ جس جگہ وہ شہابیہ ٹکراتا ہے اس جگہ ایک بڑا سا گڑھا یا سوراخ بن جاتا ہے۔ اس تصادم سے پیدا ہوئی توانائی گڑھے سے نکلنے والے مواد اور خلائی چٹان کے مواد کو پگھلا کر بلندی کی طرف اچھالتی ہے۔ اس پگھلے ہوئے مواد میں سے کچھ حصہ خلاء میں بکھر جاتا ہے اور کم بلندی تک جانے والا کم پگھلا ہوا مواد واپس اسی گڑھے کے آس پاس گر جاتا ہے۔

چوں کہ واپس گرنے والا مواد پگھل کر چھوٹے چھوٹے ذرات کی صورت میں گرتا ہے، لہذا اُس سیارے یا چاند کی باقی سطح کی نسبت پگھلنے کے بعد از سرِ نو ٹھوس حالت میں آئے یہ ذرات اپنے اوپر پڑنے والی روشنی کو اس سیارے خا چاند کی باقی سطح کی نسبت زیادہ ریفلیکٹ (منعکس) کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زمین سے دیکھنے پر ہمیں چاند پر وہ جگہیں بہت زیادہ چمکتی ہوئیں محسوس ہوتی ہیں جو جگہیں گڑھوں یا گڑھوں سے نکلنے والی اِن کرنوں پر مشتمل ہیں۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پارٹیکلز سے بھرپور شمسی ہوائیں (solar winds) اور نئے بننے بننے والے گڑھوں سے نکلنے والی گرد “گڑھوں کی ان روشن کرنوں” کی انعکاسیت کو کم کرتی چلی جاتی ہیں۔ لیکن اس عمل میں لاکھوں سے کروڑوں سال لگ جاتے ہیں۔ سیارہ عطارد پر ہونے والی تحقیقات بتاتی ہیں کہ اس پر آخری بار شہابیے پونے دو ارب سال پہلے ٹکرائے تھے۔

عطارد کی سطحی لہریں Mercury’s surface waves
نظام شمسی ہمیں آج جیسا دکھائی دیتا ہے یہ اپنی شروعات سے ہی ایسا نہیں رہا۔ آج سے چار سو پچاس کروڑ سال پہلے یہاں فقط تباہی کے مناظر ہی رہے ہوں گے۔ مادی اشیاء گرم ہونے پر پھیلتی ہیں جبکہ سرد ہونے پر سکڑتی ہیں۔ سیارہ عطارد بھی اپنے تخلیقی دور سے گزفنے کے بعد آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہوتا چلا گیا۔ اندر کا مرکزہ جب سرد پڑنے لگا تو عطارد کی سطح سکڑنے (shrink ہونے) لگی۔ سکڑتی ہوئی سطح پر دراڑیں پڑنے لگیں۔ یہ دراڑیں لہروں کا منظر پیش کرنے لگیں۔ 2008 میں عطارد کے پاس پہنچنے والی خلائی گاڑی میسنجر کے ذریعے ہم نے لہروں کی مانند نظر آنے والی ان دراڑوں کا مشاہدہ کیا۔

یہ ایک دلچسپ سوال ہے کہ عطارد کے مشہور اور بڑے گڑھے پہلے بنے تھے؟ یا پھر پہلے عطارد ٹھنڈا ہو کر سکڑنا شروع ہوا تھا؟ (جس سے یہ دراڑیں وجود میں آئیں) اس سوال سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں “کہ پہلے کیا ہوا تھا” عطارد کے بڑے گڑھوں کی عام سطحوں پر بھی ہمیں یہ لہروں کے جیسی سطحیں ملی ہیں۔ گڑھوں میں موجود سکڑنے کی وجہ سے بننے والی یہ دراڑیں/سطحی لہریں ہمیں بتاتی ہیں کہ عطارد کے مرکزے کا سرد پڑ جانا بہت زیادہ پرانی بات نہیں ہے اور (یہ بھی بتاتی ہیں کہ) عطارد کے گڑھے ان سطحی لہروں سے زیادہ پرانے ہیں۔ یعنی گڑھے بن چکے تھے اور بعد میں عطارد سرد ہو کر سکڑنا شروع ہوا۔ مٹی کا گارا بنائیں۔ اس سے ایک گیند نما گولہ سا بنا لیں۔ پھر اسے آگ میں اچھی طرح تپائیں۔ اب اسے آگ سے باہر نکال کر رکھ دیں۔ جیسے جیسے وہ ٹھنڈا ہو گا، اس کی سطح (چھوٹے پیمانے پر) اندر کو دھنسنے لگے گی۔ یعنی آپ خود بھی اس فطرتی مَظہر کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

سیارہ عطارد کی برف Mercury’s water ice
پانی کی برف روشنی کو بہت زیادہ ریفلیکٹ کرتی ہے۔ عطارد شمالی اور جنوبی قطبین پر روشنی سے بھرپور کچھ مختصر سے علاقے دیکھے گئے ہیں۔ یہ پانی کی برف ہی ہے؟ یہ سو فیصد تو نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم زیادہ امکانات یہی ہیں کہ یہ پانی کی برف ہو گی۔ سیارہ عطارد کی رات کا درجہ حرارت منفی 170 ایک سو ستر ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ لیکن دن کے وقت یہ یہ درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

اگر عطارد کی رات کا درجہ حرارت اس قدر گِر سکتا ہے تو اس سیارے کے وہ قُطبی خِطے (جہاں موجود گڑھوں میں سورج کی روشنی کبھی نہیں پہنچتی) ہو سکتا ہے کہ رات والے درجہ حرارت سے بھی کم درجہ حرارت رکھتے ہوں۔ لہذا زیادہ گُمان یہی ہے کہ اس کے قطبین (poles) پر پانی کی برف جمی ہو گی۔ عطارد پر وہ پانی کہاں سے آیا؟ اس متعلق دو ہی خیال ہیں۔ یا تو یہ پانی شہابیوں نے عطارد کی سطح پر پہنچایا۔ یا پھر عطارد پر کوئی ایسا عرصہ گزرا ہو گا کہ جب یہاں ہائیڈروجن اور آکسیجن سے پانی بننے لائق ماحول پیدا ہوا ہو گا۔ پھر اس کی فضا ختم ہو جانے اور درجہ حرارت بگڑ جانے کی وجہ سے سارا پانی خلا میں منتشر ہو گیا اور اس کے انتہائی سرد قُطبی علاقوں میں پانی برف کی صورت میں جما رہ گیا۔ عطارد واقعی ایک حیرت کدہ ہے!

سیارہ عطارد کا جُھکاؤ اور مقناطیسی میدان
(Mercury’s tilt and magnetic field)

سیارہ عطارد 88 دنوں میں سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرتے ہوئے اپنا ایک شمسی سال پورا کرتا ہے۔ لیکن اس کے پاس موسم نہیں ہیں۔ موسم کیسے بنتے ہیں؟ کسی بھی سیارے پر اس کی مداروی گردش کے دوران مختلف موسموں کے آنے جانے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ سیارہ/چاند اپنے محور (Axis) پر جُھکا ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ وہ سیارہ اپنے محور پر نہ ہی اس قدر زیادہ جُھکا ہو کہ اس پر موسموں کا دورانیہ دہائیوں تک لمبا ہو جائے۔ اور نہ ہی اس سیارے/چاند کا جُھکاؤ اس قدر کم ہو کہ جو موسم نہ بنا سکے۔ زمین پر موسم زمین کے اپنے محور پر جھکاؤ کی وجہ سے بنتے ہیں۔ زمین اپنے محور پر 23.5 ڈگری/درجے جُھکی ہے۔ سیارہ عطارد بھی اپنے محور پر جُھکا ہے۔ لیکن اس کا یہ جُھکاؤ صرف 2 ڈگری ہے۔ محور پر اتنے کم جُھکاؤ سے کسی بھی سیارے/چاند پر موسم بن پانا ممکن نہیں ہے۔

محوری جُھکاؤ نہ ہونے کی وجہ سے سیارہ عطارد کے دونوں قُطبین (poles) سے سورج ہمیشہ اُفق (horizon) کے پاس ہی نظر آتا ہے۔ یعنی آپ عطارد کے شمالی یا جنوبی قُطب (pole) پر کھڑے ہو جائیں۔ آپ کو وہاں سے سورج ہمیشہ افق کے قریب ہی ملے گا۔

زمین اور عطارد میں ایک مماثلت پائی جاتی ہے۔ نظام شمسی کے تمام سیاروں میں سے صرف زمین اور عطارد ہی ایسے ہیں کہ جن کا مقناطیسی میدان (magnetic field) ان کے مائع حالت میں حرکت کرتے ہوئے مرکزے (core) کی وجہ سے بنتا ہے۔ کسی بھی سیارے/چاند کی فضا (Atmosphere) کی حفاظت اور اس سیارے کو سورج کی تابکار شعاعوں سے بچانے کے لیے مقناطیسی میدان کا ہونا (اور اس مقناطیسی میدان کا مضبوط ہونا) لازمی ہے۔ مقناطیسی میدان سورج کی طرف سے آنے والی شمسی ہواؤں کو سیارے/اس چاند کی سطح پہنچنے سے روکتا ہے۔ عطارد بھی اپنا مقناطیسی میدان رکھتا ہے۔ لیکن عطارد اس معاملے میں اتنا خوش قسمت ثابت نہیں ہوا ہے۔ عطارد کے پاس اپنا مقناطیسی میدان موجود تو ہے لیکن اس کا مقناطیسی میدان بہت چھوٹا اور کمزور ہے۔

زمین کے مقناطیسی میدان کے مقابلے میں عطارد کا مقناطیسی میدان فقط ایک فیصد ہے۔ یعنی زمینی مقناطیسی میدان عطارد کے مقناطیسی میدان سے سو گنا زیادہ طاقتور ہے۔ کمزور مقناطیسی میدان ہونے کے سبب عطارد پر دن کے وقت سورج کی تابکار (IR & UR) شعاعیں اپنا قہر برساتی رہتی ہیں۔ تاہم کئی بار عطارد کا یہ مقناطیسی میدان سورج کی طرف سے آئے پلازما کو قابو کر کے سطح تک لے آتا ہے۔ جس سے اس کی سطح پر مقناطیسی طوفان (tornadoes) بنتے ہیں۔

سورج کی تابکار شعاعوں اور درجہ کا بہت بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ عطارد کو ارضی زندگی کے لیے غیر مستحکم اور غیر محفوظ بناتے ہیں۔ ہم عطارد سے ایسی کوئی بھی اچھی امید نہیں رکھ سکتے، جیسی امیدیں ہم نے مریخ سے لگائی ہوئی ہیں۔

میرے پاس کوئی چاند بھی نہیں ہے
(I don’t have any moons)

نظام شمسی کے بونے سیارے پلوٹو (Pluto) کا قطر سیارہ عطارد کے قطر سے آدھا بھی نہیں ہے۔ پلوٹو کمیت (mass) اور کششِ ثقل میں بھی عطارد سے چھوٹا ہے۔ اس کے باوجود پلوٹو کے ارد گرد پانچ معلوم چاند چکر لگا رہے ہیں۔ عطارد کی کشش ثقل پلوٹو سے تقریبا چھ گنا کم ہے۔ پھر کیا وجہ ہے؟ کہ عطارد کے پاس ایک بھی چاند نہیں ہے۔ یہاں ہمارے لیے ہِل سفئیر (Hill Sphere) کو سمجھ لینا فائدہ مند رہے گا۔

ہل سفئیر Hill Sphere
اندھیرے میں پانچ سو واٹ 500W کا ایک بلب روشن کیجیے۔ اس سو دس فٹ دور ایک سو واٹ 100W كا بلب بھی روشن کر لیجیے۔ پانچ سو واٹ والے بلب کی روشنی کا روشن دائرہ بہت وسیع ہو گا۔ اس کے پاس ہی دس فٹ دور سو واٹ والے بلب کی روشنی کا روشن دائرہ (بڑے بلب کی موجودگی کی وجہ سے) بہت چھوٹا ہو گا۔ چھوٹے بلب کے روشن دائرے کو بڑھانا ہو تو کیا کرنا چاہیے؟ سو واٹ والے بلب کو بڑے بلب سے دس فٹ کی بجائے پچاس فٹ دور کر دیں۔ اب یہ ہو گا کہ چھوٹے بلب کی روشنی والا علاقہ وسیع ہو جائے گا۔ لیکن یہ وسعت اس چھوٹے بلب کے ارد گرد مخصوص دائرے میں ہی آئے گی۔ کچھ یہی صورت حال سورج اور اس کے ارد گرد موجود سیاروں کی ہے۔

سورج کا ہل سفئیر کم و بیش دو سو کھرب کلومیٹر تک ہے۔ یعنی دو سو کھرب کلومیٹر کے دائرے میں جو فلکیاتی جسم بھی ہو گا، اس فلکیاتی جسم پر کسی بھی ستارے کی نسبت سورج کی کشش ثقل زیادہ اثر کرے گی۔ سورج کی کشش ثقل نظام شمسی کے تمام سیاروں کی کششِ ثقل سے کئی گنا زیادہ ہے۔ لیکن سیارے فقط اپنے ارد گرد ہی (اپنی اپنی کمیت کے مطابق) کشش ثقل کا ایک مظبوط ثقلی میدان رکھتے ہیں۔ عام الفاظ میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ “نظام شمسی کے اندر تمام فلکیاتی اجسامکے جو ہل سفئیرز ہیں، وہ تمام سورج کے ہل سفئیر کے اندر ہی وقع ہیں۔

سورج کی کششِ ثقل سیاروں کی کششِ ثقل سے بہت زیادہ طاقتور ہے۔ لیکن سیاروں کے قریب قریب علاقوں میں سورج کی کششِ ثقل سے زیادہ سیاروں کی کششِ ثقل طاقتور ہے (اُس بڑے اور چھوٹے بلب کی روشنی والے علاقوں/دائروں کی طرح) زمین کی کششِ ثقل کا علاقہ 15 لاکھ کلومیٹر تک اتنا طاقتور ہے کہ اس علاقے میں زمین کی کششِ ثقل سورج کی کششِ ثقل سے زیادہ طاقتور ہے۔ زمین کے آس پاس اس علاقے میں کوئی بھی فلکیاتی جسم ہو گا تو اس پر سورج کی بجائے زمین کا کنٹرول ہو گا۔ جیسا کہ ہمارے چاند پر سورج کی کششِ ثقل کی طاقت سے زیادہ زمینی کششِ ثقل کی طاقت اثر کرتی ہے (کیوں کہ چاند زمین سے چار لاکھ کلومیٹر دور ہے اور یہ زمین کے ہل سفئیر والا علاقہ ہے)

ہر کمیت والا جسم اپنے ارد گرد جو (کسی بھی دوسرے فلکیاتی جسم سے زیادہ طاقتور) ثقلی میدان رکھتا ہے، اسے ہِل سفئیر Hill Sphere کہا جاتا ہے۔ ہِل سفئیر کو سمجھ لینے کے بعد اب آپ ان دو سوالات کے جوابات بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔

1۔ آج تک ہمیں کسی چاند کا چاند کیوں نہیں ملا؟
2۔ سیارہ عطارد/زہرہ کا چاند کیوں نہیں ہے؟

1۔ نظام شمسی کے زیادہ تر چاند اپنے سیاروں کے قریب قریب ہیں۔ کسی بھی چاند کی کمیت اپنے سیارے کی کمیت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہوتی ہے۔ ایک ستم یہ بھی ہے کہ زیادہ تر چاند سیاروں کے نہایت قریب بھی ہوتے ہیں۔ اسی بنا پر کسی بھی چاند کا ہِل سفئیر (ثقلی قوت والا علاقہ) بھی بہت کم وُسعت والا ہوتا ہے۔ چاند کے پاس موجود سیارے کی وجہ سے کوئی بھی فلکیاتی جسم چاند کے ہل سفئیر میں ایک تو آئے گا نہیں۔ اگر آ بھی گیا تو وہ فلکیاتی جسم چاند کے بہت قریب ہونے کی بنا پر چاند سے ٹکرا جائے گا۔ اگر وہ چاند سے دور ہوا تو آہستہ آہستہ چاند کے ہل سفئیر سے نکل کر سیارے کے گرد گھومنا شروع کر دے گا۔نظام شمسی میں ہمیں آج تک کسی بھی چاند کے گرد مدار میں کوئی دوسرا فلکیاتی جسم نہیں ملا، اس کی بڑی وجہ یہی ہے۔

2۔ سیارہ عطارد اور سیارہ زہرہ کے پاس چاند کیوں نہیں ہیں؟ کیوں کہ سیارہ عطارد اور زہرہ سیارے باقی سیاروں کی نسبت سورج کے بہت قریب ہیں۔ ممکن ہے کہ ماضی میں ان دونوں سیاروں کے گرد بھی چاند رہے ہیں۔ لیکن چوں کہ یہ سیارے سورج کے بہت قریب ہیں۔ سورج کے طاقتور ہل سفئیر کی موجودگی میں ان کے ہل سفئیر چھوٹے علاقوں تک محدود ہیں۔ لہذا ممکن ہے کہ چھوٹے ہل سفئیر کی وجہ سے ان سیاروں کے چاند ان کی کششِ ثقل سے آزاد ہو کر اپنے مدار چھوڑ گئے ہوں۔

یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان دونوں سیاروں کے چاند ان کے زیادہ قریب ہوں اور مزید قریب ہوتے ہوتے مدتوں بعد وہ چاند اپنے سیاروں کے ساتھ ٹکرا گئے ہوں (عطارد کے چھوٹے حجم اور کم کمیت ہونے کے باوجود اس کا مرکزہ (core) بہت بڑا ہے۔ ممکن ہے کہ عطارد کا چاند عطارد کے بہت قریب ہو۔ اور اسی قربت کی وجہ سے اس چاند کی عطارد سے ہوئی ٹکر کے نتیجے میں عطارد اور اس چاند کی کمیت کا بہت بڑا حصہ ‘ٹکر اور سورج کی گرمی کے سبب’ پگھل کر خلا میں تحلیل ہو گیا ہو۔ اس کے بعد عطارد کا مرکزہ اور مرکزے کے اوپر کم موٹی پرتیں ہی باقی بچی ہوں۔ یہ مصنف کا ذاتی خیال ہے، کوئی مستند یا سائنسی نظریہ نہیں)

یہ دعوی غیر درست ہو گا کہ ہم انسان مظاہرِ فطرت اور قوانینِ فطرت کو سو فیصد سمجھ چکے ہیں۔ لیکن جس قدر ہم انہیں سمجھ چکے ہیں، اس حساب سے ہم انسان ایک سنہری دور میں جی رہے ہیں۔ کسی سیارے کے پاس زیادہ چاند کیوں ہیں؟ کسی سیارے کے پاس چاند کم تعداد میں کیوں ہیں؟ اور کسی سیارے کے پاس ایک بھی چاند کیوں نہیں ہے؟ آج سے چند سو سال پہلے یہ سوالات اٹھانا تو دور، ان سوالات کے متعلق سوچنا بھی عجیب لگتا ہو گا۔ مگر آج ہم فطرت کی یونیورسٹی میں ان سوالات کے بہت حد تک درست جوابات تلاش کرتے ہوئے اس پرچے میں مطلوبہ نمبر حاصل کر کے پاس ہو چکے ہیں۔

سیارہ عطارد پر انسانی گڑھا
(Human crater on the planet Mercury)

ماضی میں سیارہ عطارد کی جانب دو خلائی مشنز بھیجے جا چکے ہیں۔

1۔ Mariner 10
خلائی گاڑی Mariner 10 نے ہمیں عطارد کے 45 فیصد حصے کے متلعق آگاہ کیا۔ اس خلائی گاڑی کو زمین سے 3 نومبر 1973 میں روانہ کیا گیا تھا۔ فروری 1974 میں یہ خلائی گاڑی سیارہ زہرہ کے پاس پہنچنی۔ مارچ 1974 میں یہ عطارد کے علاقے میں داخل ہوئی۔ انسانوں کی طرف سے عطارد کی طرف بھیجا جانے والا یہ پہلا خلائی میشن تھا۔ پانچ سو تین کلوگرام وزنی اس خلائی گاڑی میں دو عدد کیمرے، انفراریڈ ریڈیومیٹر Infrared Radiometer، الٹراوائلٹ ائیرگلو سپیکٹرومیٹر Ultraviolet Airglow Spectrometer, میگنیٹومیٹر Magnetometer, پلازما اینالائزر Plasma Analyser سمیت متعدد سینسرز لگائے گئے تھے۔

یہ پہلا خلائی میشن تھا جس نے ہمیں سیارہ عطارد کے متعلق معلومات دیں۔ اس خلائی میشن میں پہلی بار کسی بھی سیارے تک پہنچنے کے لیے کسی دوسرے سیارے کی کششِ ثقل کو استعمال کیا گیا (عطارد تک پہنچنے کے لیے سیارہ زہرہ Venus کی کششِ کو استعمال کیا گیا تھا) اسی خلائی میشن نے پہلی بار کششِ ثقل کی مدد سے خلا میں راستہ تبدیل کیا اور پہلی بار اسی خلائی میشن میں سورج سے آنے والی شمسی ہواؤں (Solar winds) سے بھی فائدہ اٹھایا گیا۔ Mariner 10 سے ہمارا آخری رابطہ 24 مارچ 1975 میں ہوا تھا۔ اس خلائی میشن نے عطارد کے گرد اپنے تین چکروں کے دوران ہمیں عطارد کی تقریبًا پچاس فیصد سطح کی دو ہزار سات سو 2700 تصاویر بھیجیں۔ جس میں سے بہت سی تصاویر آج تک کی لی گئیں عطارد کی بہترین تصاویر میں شمار ہوتی ہیں۔

2۔ MESSENGER spacecraft
میسنجر نامی خلائی گاڑی عطارد کی طرف بھیجی گئی دوسری خلائی گاڑی تھی۔ اسے زمین سے مارچ 2004 میں بھیجا گیا۔ اس خلائی گاڑی کا وزن کم و بیش اٹھائیس 28 مَن (1107 کلوگرام) تھا۔ اس میں لگائے گئے حساس آلات Mariner پر لگائے گئے حساس آلات (sensors) سے بہت زیادہ منفرد اور جدید تھے۔ اس میں لگائے گئے حساس آلات کی فہرست یہ ہے :

1۔ مرکری ڈیول امیجنگ سسٹم Mercury Dual Imaging System (MDIS)
2۔ گاما-رے سپیکٹرومیٹر Gamma-ray Spectrometer (GRS)
3۔ نیوٹران سپیکٹرومیٹر Neutron Spectrometer (NS)
4۔ ایکس-رے سپیکٹرومیٹر X-ray Spectrometer (XRS)
5۔ میگنیٹومیٹر Magnetometer (MAG)
6۔ مرکری لیزر الٹیمیٹر Mercury Laser Altimeter (MLA)
7۔ مرکری ایٹماسفئیرک اینڈ سرفیس کمپوزیشن سپیکٹرومیٹر Mercury Atmospheric and Surface Composition Spectrometer (MASCS)
8۔ انرخیٹک ارٹیکل اینڈ پلازما سپیکٹرومیٹر Energetic Particle and Plasma Spectrometer (EPPS)
9۔ ریڈیو سائنس ایکسپیریمنٹ Radio Science Experiment (RS)

• زمین سے اپنی اڑان کے سات سال بعد مارچ 2011 میں میسنجر خلائی گاڑی عطارد کے مدار میں داخل ہوئی۔ عطارد تک پہنچنے سے پہلے اس کے کیمروں نے 18 فروری 2011 کو ہمارے نظام شمسی کی ایک خوبصورت تصویر لی۔ جس میں یورینس اور نیپچون کے علاوہ باقی تمام سیارے نظر آ رہے تھے۔ اسی پر لگے حساس آلات نے ہمیں عطارد کی سطح پر موجود مختلف عناصر کے متعلق معلومات فراہم کیں، عطارد کے قطبین پر برف کے شواہد ڈھونڈے، عطارد کے مقناطیسی میدان کا مطالعہ کیا اور عطارد کی فضاء میں پانی کے مالیکیلوز کو دریافت کیا۔

خلائی گاڑی میسنجر نے اپنی مقرر کردہ وقت میں اپنی ذمہ داری کو پورا کیا۔ کام مکمل ہونے پر ناسا کی طرف سے اس میشن میں دو بار توسیع کی گئی اور اس میشن کو اپریل 2015 تک بڑھا دیا گیا۔

16 اپریل 2015 کو ناسا نے اعلان کیا کہ 30 اپریل 2015 کے دن عطارد کی طرف بھیجی گئی خلائی گاڑی میسنجر MESSENGER عطارد کی سطح سے ٹکرا جائے گی۔

اور پھر ہمیں زمین اور اس کے مدار، نظام شمسی کے سیاروں، چند ایک دمدار ستاروں اور عطارد کی بہت سی منفرد اور قیمتی تصاویر و معلومات فراہم کر کے 30 اپریل 2015 کے دن یہ میسنجر نامی خلائی گاڑی 14080 چودہ ہزار اسی کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے عطارد کی سطح کے ساتھ ٹکرا کر جہاں خود کو فنا کر گئی، وہیں عطارد کی سطح پر ایک ایسا گڑھا (Crater) بنا گئی، جو کہ عطارد کے تمام گڑھوں میں سے واحد اور منفرد گڑھا اس لیے ہے کہ اس گڑھے کو کسی خلائی چٹان نے نہیں بلکہ انسانی ہاتھوں سے بنی فقط گیارہ سو کلوگرام وزنی خلائی گاڑی نے بنایا ہے۔

میسنجر MESSENGER کے ٹکراؤ سے بنا یہ گڑھا عطارد کے مشہور گڑھے Janáček کے پاس بنا تھا۔ عطارد کی سطح پر مسینجر گاڑی سے بنا یہ گڑھا اور میسجر گاڑی کی باقیات ابھی تک وہاں موجود ہیں یا نہیں؟ ہو سکتا ہے اس بات کی خبر ہمیں 2025 میں BepiColombo نامی مشن کی بدولت مل جائے۔ 2018 میں زمین سے روانہ ہو چکا BepiColombo تیسرا خلائی مشن ہے جو کہ عطارد کے متعلق بہت ہی اہم سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کے لیے عطارد کی طرف روانہ ہو چکا ہے۔ یعنی ہمیں عطارد سے جڑی مزید معلومات جاننے کے لیے 2025 تک انتظار کرنا ہو گا۔

Leave a Comment