Basic Knowledge About our Solar System Planets and other important thing in Urdu

آئیں فلکیات سیکھیں

اس سے پہلے کہ ہم باقاعدہ فلکیات کے بارے میں بات کریں، میں ہمارے لوگوں میں فلکیات کے متعلق پھیلی ہوئی کچھ غلط فہمیاں دور کرنا چاہوں گا تاکہ آگے چل کر بار بار آپ کے ذہنوں میں یہ سوال نہ آئیں

🔭 1- زمین کے علاوہ کہیں گریویٹی نہیں ہے

ہمارے لوگوں میں یہ عام تصور پایا جاتا ہے کہ زمین کے علاوہ چاند پر یا کسی اور سیارے پر گریویٹی نہیں ہے وہاں کوئی انسان جاۓ تو بس اڑتا رہے گا
یہ بلکل غلط تصور ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ کائنات میں ہر جگہ گریویٹی موجود ہے ابھی تک سائنسدانوں کو کائنات میں ایک انچ بھی ایسی جگہ نہیں ملی جہاں گریویٹی زیرو ہو
خلاء میں بھی زیرو گریویٹی نہیں ہوتی بلکہ اگر آپ زمین کے قریب ہیں تو زمین کی گریویٹی آپ کو اپنے اردگرد گمانا شروع کر دے گی، چاند زمین سے تقریباً 3 لاکھ 84 ہزار کلومیٹر دور ہے لیکن پھر بھی اس پر زمین کی گریویٹی اثرانداز ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ زمین کے گرد گومتا ہے، اگر آپ زمین کی گریویٹی سے نکل گئے ہیں تو سورج کی گریویٹی آپ کو اپنے اردگرد گمانا شروع کر دے گی جیسے باقی سب سیارے سورج کے گرد گومتے ہیں، اگر آپ سورج کی گریویٹی سے بھی باہر نکل جائیں تو آپ گلیکسی کے درمیان موجود بلیک ہول کے گرد گومنا شروع کر دیں گے، یعنی کہ کہیں بھی چلے جائیں آپ گریویٹی سے نہیں بچ سکتے یہ کائنات میں ہر جگہ موجود ہے
آپ چاند پر چلے جائیں یا کسی اور سیارے پر چلے جائیں وہاں گریویٹی موجود ہو گی آپ ہر گز نہیں اڑیں گے، گریویٹی کا تعلق کسی چیز کے ماس سے ہوتا ہے، جس چیز کا جتنا زیادہ ماس ہو گا اس کی گریویٹی اتنی زیادہ ہو گی
زمین سے چھوٹے سیاروں پر زمین سے کم گریویٹی ہوتی ہے اور بڑے سیاروں پر زمین سے زیادہ گریویٹی ہوتی ہے
چاند زمین سے بہت چھوٹا ہے وہاں کی گریویٹی کو اس طرح سمجھیں کہ اگر آپ زمین پر چھلانگ لگاتے ہیں تو تقریباً ڈیڑھ فٹ اونچا اٹھتے ہیں اور پھر زمین واپس کھینچ لیتی ہے، اگر چاند پر بھی آپ اتنا ہی زور لگا کر چھلانگ لگائیں تو آپ چھ فٹ تک اوپر اٹھیں گے اور پھر چاند آپ کو کھینچ لے گا، اسی طرح تمام سیاروں پر ان کے ماس کے حساب سے گریویٹی ہوتی ہے

🔭 2- زمین کے علاوہ کہیں ہوا نہیں ہے

دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں زمین کے علاوہ کہیں پر ہوا/فضاء (Atmosphere) نہیں ہے
فضاء کیا ہوتی ہے؟ مختلف گیسوں کا مجموعہ جو کسی سیارے کے اوپر پھیلا ہوتا ہے
زمین کی فضاء 78 فیصد نائٹروجن، 21 فیصد آکسیجن اور 1 فیصد باقی گیسوں پر مشتمل ہے
اسی طرح باقی سیاروں پر بھی فضاء ہوتی ہے لیکن فلحال ہمیں کوئی ایسا سیارہ نہیں ملا جس کی فضاء میں اتنی آکسیجن موجود ہو کہ وہاں انسان سانس لے سکے
مریخ کی فضاء میں 95 فیصد کاربن ڈائی آکسائڈ، 3 فیصد نائٹروجن، 1.6 فیصد آرگون اور باقی 0.4 فیصد آکسیجن اور دوسری گیسیں ہیں، وہاں پر بھی زمین کی طرح طوفان آتے رہتے ہیں

🔭 3- زمین کے علاوہ کہیں پر پانی نہیں ہے

تیسری غلط فہمی ہمارے لوگوں میں یہ ہے کہ پانی صرف زمین پر ہے، جبکہ حقیقت میں ہمیں کائنات میں بے شمار جگہوں پر پانی مل چکا ہے، 2011 میں کائنات کے ایک دور دراز علاقے قوازار Quasar کے قریب پانی کے بادل ملے ہیں اور ان بادلوں میں زمینی سمندروں کے مقابلے 140 کھرب گُنا زیادہ پانی موجود ہے۔
ہمیں نظام شمسی کے سیاروں پر بھی پانی مل چکا ہے، مریخ پر کافی زیادہ پانی موجود ہے جو اس کے پولز پر برف کی حالت میں ہے، ہمارے چاند پر بھی پانی مل چکا ہے لیکن وہ بھی برف کی حالت میں ہے

🔭 4- سورج ساکن ہے تمام سیارے اس کے گرد گومتے ہیں

یہ غلط فہمی بہت عام پائی جاتی ہے، اور بچوں کی سائنس کی کتابوں میں بھی اکثر ایسا ہی دیکھا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کائنات میں کچھ بھی ساکن نہیں ہے، ہر سیارہ، ستارہ، بلیک ہول، گلیکسی حرکت میں ہے
چاند زمین کے گرد گومتا ہے، زمین، چاند اور تمام سیارے سورج کے گرد اور سورج ہماری گلیکسی کے درمیان میں موجود بلیک ہول کے گرد گومتا ہے اور گلیکسی اپنے لوکل گروپس میں دوسری گلیکسیز کے قریب جا رہی ہے اور لوکل گروپس مسلسل پھیل رہے ہیں جس کو کائنات کا پھیلنا بھی کہتے ہیں

🔭 5- آسمان کا رنگ نیلا ہے

ہمارے ہاں یہ غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے کہ آسمان کا رنگ نیلا ہے، جبکہ حقیقت میں ابھی تک سائنس نے آسمان دریافت ہی نہیں کیا
سورج کی روشنی سات رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے جو آپ نے اکثر قوس قزح (Rainbow) میں دیکھے ہوں گے جب یہ روشنی زمینی فضاء میں داخل ہوتی ہے تو نیلے رنگ کی فریکوئنسی دکھاتی ہے، طوح آفتاب کے وقت یہ سرخ رنگ میں بدل جاتی ہے اور ہمیں آسمان سرخ نظر آتا ہے
زمینی فضاء سے باہر نکلیں تو آپ کو ہر طرف لامحدود خلاء ہی نظر آۓ گی، آسمان جیسی کوئی چیز ابھی سائنس دریافت نہیں کر سکی

🔭 6- سورج کا رنگ پیلا ہے

سورج کے رنگ کو پیلا سمجھا جاتا ہے جبکہ یہ بھی غلط ہے، سورج ایک ستارہ ہے اور ستارے مختلف رنگوں کے ہوتے ہیں جن میں سفید، نیلا، پیلا، زرد، اور سرخ رنگ شامل ہیں، ہمارا سورج ایک سفید رنگ کا ستارہ ہے یہ ہمیں پیلا اور کبھی کبھی سرخ ہماری زمینی فضاء کی وجہ سے نظر آتا ہے، خلاء میں جا کر دیکھیں تو یہ سفید ہی نظر آتا ہے.

🔭 فلکی اجسام (Celestial objects) کیا ہوتے ہیں:

فلکی اجسام ان تمام اجسام کو کہا جاتا ہے جو کائنات میں موجود کسی کہکشاں کے سینٹر کے گرد گھوم رہے ہیں یا کسی ستارے کے گرد یا کسی سیارے کے گرد اپنے مدار میں چکر لگا رہے ہیں، زمین، سورج، چاند ستارے سب فلکی اجسام ہیں
ہمارے نظام شمسی میں 8 سیارے، 5 بونے سیارے، 200 سے زائد چاند، کیوپر بیلٹ کے کروڑوں اجسام، اورٹ کلاؤڈ کے اجسام اور مریخ اور مشتری کے درمیان موجود آسٹیروئڈ بیلٹ کے اجسام وغیرہ شامل ہیں

🔭 ستارے (Stars) کیا ہوتے ہیں:

ستارے ان فلکی اجسام کو کہتے ہیں جو گیس سے بنے ہوتے ہیں اور ان میں فیوژن ریکشن ہوتا ہے اور وہ روشنی، انرجی اور ہیٹ خارج کرتے ہیں، ہمارا سورج بھی ایک ستارہ ہے اور ہماری کہکشاں (Galaxy) میں اس طرح کے اربوں ستارے ہیں جن میں سے کچھ ستارے آپ رات کو آسمان پر دیکھتے ہیں

🔭 سیارے (Planets) کیا ہوتے ہیں:

سیارے ان فلکی اجسام کو کہتے ہیں جو کسی ستارے کے گرد ایک خاص مدار (orbit) میں چکر لگاتے ہیں اور کسی دوسرے سیارے کے مدار میں دخل اندازی نہیں کرتے، ہماری زمین بھی ایک سیارہ ہے

🔭 بونے سیارے (Dwarf Planets) کیا ہوتے ہیں:

بونے سیارے ان فلکی اجسام کو کہتے ہیں جو ستارے کے گرد چکر لگاتے ہیں لیکن دوسرے سیاروں کے مدار میں بھی دخل اندازی کرتے ہیں، ہمارے نظام شمسی میں 5 بونے سیارے ہیں
(Pluto, Eris, Ceres, Haumea, Makemake)

🔭 سیٹلائیٹس (Satellites) کیا ہوتے ہیں:

سیٹلائیٹس ان فلکی اجسام کو کہتے ہیں جو خلاء میں اپنے سے بڑے فلکی جسم کے گرد چکر لگاتے ہیں، سیٹلائٹس قدرتی بھی ہوتے ہیں جیسے ہمارا چاند ایک قدرتی سیٹلائیٹ ہے اور یہ مصنوعی بھی ہوتے ہیں جو انسانوں نے بنا کر خلاء میں بھیجے ہیں جیسے انٹرنیشنل سپیس سٹیشن ایک مصنوعی سیٹلائٹ ہے

🔭 کہکشاں (Galaxy) کیا ہوتی ہے:

کہکشاں اصل میں ستاروں، سیاروں، سیٹلائٹ، نیبولا کا مجموعہ ہوتا ہے جو ایک سینٹر کے گرد گومتا ہے، ہماری کائنات میں اربوں کہکشائیں موجود ہیں اور ایک کہکشاں میں اربوں ستارے اور نظام شمسی ہوتے ہیں، جس کہکشاں میں ہمارا نظام شمسی ہے اس کو ملکی وے (Milky Way) کہکشاں کہتے ہیں ہماری قریب ترین کہکشاں کا نام اینڈرومیڈا (Andromeda) کہکشاں ہے اسے ہزار سال پہلے مشہور فلکیات دان عبدالرحمٰن الصوفی نے دریافت کیا تھا، مستقبل میں ہماری کہکشاں اس کہکشاں سے ٹکرا جاۓ گی اور ایک بڑی کہکشاں وجود میں آۓ گی جسے ملکومیڈا (Milkomeda) کا نام دیا گیا ہے

🔭 نظام شمسی (Solar System) کیا ہوتا ہے:

نظام شمسی ایک ستارے (سورج) اور ان تمام اجرام فلکی کو کہا جاتا ہے جو اس ستارے (سورج) کی گریویٹی سے Connected ہوتے ہیں اور اپنے اپنے مدار میں چکر لگا رہے ہوتے ہیں
ہمارے نظام شمسی میں 8 سیارے ہیں
(Mercury, Venus, Earth, Mars, Jupiter, Saturn, Uranus, Neptune)

جن میں پہلے چار سیارے اندرونی سیارے (Inner Planets) کہلاتے ہیں چونکہ ان کی ساخت پتھریلی ہے اس لیے ان کو پرتیشوی سیارے (Terrestrial Planets) بھی کہا جاتا ہے
اور اگلے چار سیاروں کو بیرونی سیارے (Outer Planets) کہا جاتا ہے ان کی سطح پہلے والے چار سیاروں کی طرح پتھریلی یا Solid نہیں ہے بلکہ یہ گیس سے بنے سیارے ہیں اسلئے ان کو گیسی دیو (Gas Giant) کہا جاتا ہے

🔭 ہمارے نظام شمسی کا تعارف

☀️ سورج (Sun):
سورج ایک سفید ستارہ ہے اس کی سطح کا درجہ حرارت 5500 سے 5600 ڈگری سیلسیس ہوتا ہے اور اس کی کور کا درجہ حرارت 1 کڑوڑ 50 لاکھ ڈگری سیلسیس ہے، سورج ملکی وے گلیکسی کے سینٹر سے تقریباً 25800 نوری سال دور ہے اور یہ ملکی وے کے سینٹر کے گرد ایک چکر 230 ملین سال میں مکمل کرتا ہے جس کو ایک Galactic Year کہتے ہیں۔ سورج کے گرد 8 سیارے (Planets) اور 5 بونے سیارے (Dwarf Planets) گردش کرتے ہیں

🌐 عطارد (Mercury):
یہ ہمارے نظام شمسی کا پہلا سیارہ ہے جو سورج سے 58 ملین کلومیٹر دور ہے اور یہ سورج کے گرد اپنا ایک چکر تقریباً 88 زمینی دنوں میں پورا کر لیتا ہے, اس کا درجہ حرارت دن کے وقت 430 ڈگری سیلسیس اور رات کے وقت منفی 180 ڈگری سیلسیس ہوتا ہے اور اس کا ڈایامیٹر 4880 کلومیٹر ہے

🌐 زہرہ (Venus):
یہ ہمارے نظام شمسی کا دوسرا سیارہ ہے جو سورج سے 108 ملین کلومیٹر دور ہے اور یہ سورج کے گرد اپنا ایک چکر تقریباً 225 زمینی دنوں میں پورا کر لیتا ہے، اس کا درجہ حرارت 471 ڈگری سیلسیس ہوتا ہے اور یہ نظام شمسی کا سب سے گرم سیارہ ہے اور اس کا ڈایامیٹر 12104 کلومیٹر ہے

🌍 زمین (Earth):
یہ ہمارے نظام شمسی کا تیسرا سیارہ ہے جو سورج سے 150 ملین کلومیٹر دور ہے اور یہ سورج کے گرد اپنا ایک چکر تقریباً 365.6 دنوں میں پورا کر لیتا ہے اس کا average درجہ حرارت 16 ڈگری سیلسیس ہوتا ہے اور اس کا ڈایامیٹر 12742 کلومیٹر ہے

🌐 مریخ (Mars):
یہ ہمارے نظام شمسی کا چوتھا سیارہ ہے جو سورج سے 249 ملین کلومیٹر دور ہے اور یہ سورج کے گرد اپنا ایک چکر تقریباً 687 زمینی دنوں میں پورا کر لیتا ہے، اس کا درجہ حرارت منفی 28 ڈگری سیلسیس ہوتا ہے اور اس کا ڈایامیٹر 6780 کلومیٹر ہے

🌐 مشتری (Jupiter):
یہ ہمارے نظام شمسی کا پانچواں سیارہ ہے جو سورج سے 755 ملین کلومیٹر دور ہے اور یہ سورج کے گرد اپنا ایک چکر تقریباً 12 زمینی سالوں میں مکمل کرتا ہے، اس کا درجہ حرارت منفی 108 ڈگری سیلسیس ہوتا ہے اور اس کا ڈایامیٹر 139822 کلومیٹر ہے، یہ سائز کے لحاظ سے نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ ہے

🌐 زحل (Saturn):
یہ ہمارے نظام شمسی کا چھٹا سیارہ ہے جو سورج سے تقریباً 1.4 بلین کلومیٹر دور ہے اور یہ سورج کے گرد اپنا ایک چکر تقریباً 29 زمینی سالوں میں پورا کرتا ہے، اس کا درجہ حرارت منفی 138 ڈگری سیلسیس ہوتا ہے اور اس کا ڈایامیٹر 116464 کلومیٹر ہے

🌐 یورینس (Uranus):
یہ ہمارے نظام شمسی کا ساتواں سیارہ ہے جو سورج سے 2.9 بلین کلومیٹر دور ہے اور یہ سورج کے گرد اپنا ایک چکر تقریباً 84 زمینی سال میں مکمل کرتا ہے اس کا درجہ حرارت منفی 195 ڈگری سیلسیس ہوتا ہے اور اس کا ڈایامیٹر 50724 کلومیٹر ہے

🌐 نیپچون (Neptune):
یہ ہمارے نظام شمسی کا آٹھواں سیارہ ہے جو سورج سے 4.4 بلین کلومیٹر دور ہے اور یہ سورج کے گرد اپنا ایک چکر تقریباً 165 زمینی سال میں مکمل کرتا ہے، اس کا درجہ حرارت منفی 201 ڈگری سیلسیس ہوتا ہے اور اس کا ڈایامیٹر 49244 کلومیٹر ہے
==≠=======≠===≠======================
🔭 فلکیاتی چٹانوں کی پٹی (Asteroid_Belt):

فلکیاتی چٹانوں کی پٹی مشتری اور مریخ کے مداروں کے بالکل درمیان میں واقع ایک ایسا علاقہ ہے جس میں کروڑوں کی تعداد میں ٹھوس، بے قاعدہ فلکیاتی اجسام سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں جنکا سائز سیاروں کے سائز سے ہزاروں لاکھوں گنا چھوٹا ہے چونکہ یہ بھی سیاروں کی طرح سورج کا چکر لگا رہے ہیں اس لیے انکو صغیرہ سیارے (minor planets) یا سیارہ نما (Planetoids ) کہتے ہیں
اس Asteroid belt کا سورج سے فاصلہ زمین کے سورج کے فاصلے سے اڑھائی گناہ زیادہ ہے
ان چٹانوں میں سے زیادہ تر چٹانیں پتھریلی ساخت کی ہیں جبکہ کچھ چٹانوں کی ساخت میں لوہا اور نکل بھی پایا گیا ہے
مشتری ہماری زمین کے لیے مسیحا کا کام کر رہا ہے کیونکہ مشتری اپنی گریوٹی (24.79 میٹر فی مربع سیکنڈ) سے ان ہزاروں چٹانوں کو جو زمین کی گریوٹی کی گرفت میں آ کر زمین کے مدار میں داخل ہونا چاہتے ہیں مشتری اپنی کشش ثقل سے اسکو اپنی جانب کھینچ لیتا ہے
اس فلکیاتی چٹانوں کی پٹی میں 10 میٹر سے لے کر 530 کلومیٹر ڈایا میٹر رکھنے والی چٹانیں موجود ہے

🔭 کیوپر پٹی (Kuiper Belt):

جیسا کہ ہمیں پتا ہے ہمارے نظام شمسی میں آٹھ سیارے ہیں اور آخری نیپچون ہے کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اس آخری سیارے کے بعد کیا ہے جسکو سورج کی گریویٹی نے اپنے تابع رکھا ہوا ہے؟
کیا آپ یقین کریں گے کہ اوپر ذکر کیے گئے آسٹیروئڈ بیلٹ سے بھی 200 گنا بڑے ایک پتھروں کا سمندر ہے جو کروڑوں برف کی چٹانوں، پتھروں اور بونے سیاروں پر مشتمل ہے، یہ سارے فلکی اجسام بھی سیاروں کی طرح سورج کے گرد چکر لگا رہے ہیں…
کیوپر بیلٹ نظام شمسی کا ایک خط ہے جو نیپچون کے مدار سے باہر 30 آسٹرونومیکل یونٹ سے 50 آسٹرونومیکل یونٹ (ایک آسٹرونومیکل یونٹ زمین اور سورج کے درمیان فاصلہ کو کہتے ہیں جو 15 کروڑ کلومیٹر بنتا ہے) تک مشتمل یہ بنیادی طور پر منجمد اجسام پر مشتمل ہوتا ہے جس میں پانی، میتھین اور امونیا شامل ہے

🔭 اوورٹ کلاؤڈ (Oort Cloud):

سورج سے تقریباً 2 ہزار آسٹرونومیکل یونٹ سے 3 ہزار آسٹرونومیکل یونٹ کی دوری پر واقع برفیلے اجسام پر مشتمل علاقہ جس کا آخری کنارہ سورج سے 10 لاکھ سے 20 لاکھ آسٹرونومیکل یونٹ دور واقع ہے اوورٹ کلاؤڈ کہلاتا ہے جس کو 1950 میں ڈچ فلکیات دان جان اوورٹ (Jan Oort) نے دریافت کیا تھا
اوورٹ کلاؤڈ کو دو علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلا حصہ ڈسک کی شکل کا اندرونی اوورٹ کلاؤڈ (disc shaped inner oort cloud) کہلاتا ہے اور اسکو ایک دوسرے نام hills cloud سے بھی جانا جاتا ہے جبکہ دوسرا حصہ کروی بیرونی اوورٹ کلاؤڈ (Spherical outer oort cloud) کہلاتا ہے
جتنے بھی دمدار ستارے (Comets) ہیں زیادہ تر وہ انہیں علاقوں سے آتے ہیں
چونکہ یہ ان علاقوں پر مشتمل اجسام ہیں جہاں سورج کی روشنی نہیں پہنچتی اس لیے اس کلاؤڈ کو ابھی تک کسی نے نہیں دیکھا، جو بھی اوورٹ کلاؤڈ کی تحقیقات ہیں وہ سب انہی دمدار ستاروں کی مدد سے لی گئی ہیں

Leave a Comment